کے ایم سی ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بارشوں کے بعد شہر میں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی استرکاری اور پیوندکاری کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے ہر ضلع کو 15 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔
میئر کے مطابق:
106 سڑکوں کی تفصیلات، ٹھیکیداروں اور انجینیئرز کے نام، کمپنیوں کا ریکارڈ اور ایکس ای این کے واٹس ایپ نمبرز کے ایم سی کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
شہری کسی بھی شکایت کے لیے 1339 ہیلپ لائن پر رابطہ کرسکتے ہیں۔
سڑکوں اور اسٹریٹ لائٹس کے سالانہ کنٹریکٹ ساتوں اضلاع میں الگ الگ کنٹریکٹرز کو دیے گئے ہیں۔
نالوں، پارکس اور دیگر منصوبوں کی تفصیلات بھی ویب سائٹ پر اپ ڈیٹ کی جا رہی ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وہ اور ڈپٹی میئر منصوبوں کی براہِ راست مانیٹرنگ کریں گے۔ جو ادارے بغیر اجازت سڑکیں کاٹیں گے، ان کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔
انہوں نے ٹاؤن چیئرمینز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پراپرٹی ٹیکس، روڈ کٹنگ، ایڈورٹائزمنٹ اور ٹریڈ لائسنس کی مد میں بھاری رقوم حاصل ہوتی ہیں، اس کا حساب دینا ہوگا۔ خاص طور پر نیو کراچی ٹاؤنز کو 3.25 ارب روپے روڈ کٹنگ کی مد میں ملے لیکن خرچ کہاں ہوا، یہ سوال ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ جماعت اسلامی سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کو تیار ہیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن کو تنقید کے بجائے اپنے کام عوام کے سامنے لانے چاہئیں۔
مزید کہا کہ لاہور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نرخ مقرر ہیں لیکن کراچی میں شہریوں سے کوئی چارجز نہیں لیے جاتے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے بہترین کام کیا، لیکن اس کا کریڈٹ کچھ ٹاؤن چیئرمین لینے لگے۔