این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 30 اگست سے 3 ستمبر کے دوران دریائے راوی کے بالائی علاقوں میں بارشوں اور تھین ڈیم سے پانی کے اخراج کے باعث دریا کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے کئی اضلاع میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
🔹 دریائے راوی کی صورتحال
اس وقت بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ تقریباً 1 لاکھ 47 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ کے مطابق 2 سے 3 ستمبر کے دوران یہ سیلابی ریلا سدھنائی پہنچے گا، جہاں بہاؤ 1 لاکھ 25 ہزار سے 1 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک متوقع ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سدھنائی کے مقام پر یہ ریلا شدید خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔
لاہور سمیت کئی علاقے ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان میں لاہور سٹی، رائیونڈ، قصور، پتوکی، اوکاڑہ، رینالہ خورد، ڈیپالپور، گوگرا، تانڈیانوالہ، کمالیہ، پیر محل، اڈا حکیم اور سدھنائی شامل ہیں۔
🔹 دریائے چناب کی صورتحال
چنیوٹ پل پر اس وقت پانی کا بہاؤ 8 لاکھ 55 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث دریا میں انتہائی شدید سیلابی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
🔹 انتظامیہ اور حکومتی اقدامات
وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے ملک بھر میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر 24 گھنٹے فعال ہے جبکہ سول اور عسکری اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔
🔹 اہم ہدایات عوام کے لیے
دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہنے والے افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کیا جائے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔
ایک ایمرجنسی کٹ (پانی، خوراک، ادویات) اپنے پاس رکھیں۔
اہم دستاویزات کو محفوظ جگہ منتقل کریں۔
مزید رہنمائی اور بروقت اپ ڈیٹس کے لیے این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ استعمال کریں۔
یہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے خود کو اور اپنے اہل خانہ کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔