خیبرپختونخوا: سیلاب اور حادثات سے 406 افراد جاں بحق، معاوضوں میں نمایاں اضافہ

خیبرپختونخوا: سیلاب اور حادثات سے 406 افراد جاں بحق، معاوضوں میں نمایاں اضافہ - اردو خبریں

خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور حادثات کے نتیجے میں 406 افراد جاں بحق اور 245 زخمی ہوئے، جبکہ 664 گھر مکمل طور پر اور 2431 گھر جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ 511 سڑکیں، 77 پل اور 2123 دکانیں بھی نقصان کا شکار ہوئیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ صوبائی حکومت نے فوری طور پر تمام محکموں، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو متحرک کیا۔ ریسکیو کارروائیوں کے دوران 5566 افراد کو بچایا گیا اور 430 لاشیں برآمد ہوئیں۔ متاثرہ علاقوں میں 2061 اہلکار اور 176 گاڑیاں و کشتیاں روانہ کی گئیں۔ اب تک 136 رابطہ سڑکیں اور 65 پل بحال کیے جا چکے ہیں۔

ریلیف سرگرمیوں کے تحت متاثرین کو ایک لاکھ 19 ہزار افراد تک پکا پکایا کھانا فراہم کیا گیا، 125 ٹرکوں پر امدادی سامان بھیجا گیا اور 70 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ اموات کا معاوضہ 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے، زخمیوں کا معاوضہ ڈھائی لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ مکمل تباہ شدہ گھروں کے لیے 10 لاکھ روپے اور جزوی متاثرہ گھروں کے لیے 3 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ دکانوں کے مالکان کے لیے پہلی بار 5 لاکھ روپے جبکہ جزوی متاثرہ دکانوں کے لیے 1 لاکھ روپے کا معاوضہ مقرر کیا گیا ہے۔ فصلوں، باغات اور مال مویشیوں کے نقصان کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کے مطابق اب تک 350 جاں بحق افراد کے لواحقین کو 654 ملین روپے، 18 زخمیوں کو 1 کروڑ 95 لاکھ روپے، 4432 افراد کو فوڈ اسٹیمپ کی مد میں 6 کروڑ 65 لاکھ روپے، گھروں کی مد میں 7 کروڑ 90 لاکھ روپے اور دکانوں کے معاوضے کی مد میں 2 کروڑ 80 لاکھ روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔ مزید 1 ارب روپے دکانوں اور 1.3 ارب روپے گھروں کے لیے جاری کیے جائیں گے۔

معاوضوں کی ادائیگی کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے اور اتوار تک تمام ادائیگیاں مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ متاثرہ اضلاع میں بحالی کے کاموں کی نگرانی کے لیے سینئر افسران تعینات ہیں، جبکہ اضافی طبی عملہ، موبائل میڈیکل یونٹس اور ادویات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا کہ کابینہ اراکین، اراکین اسمبلی اور سرکاری ملازمین اپنی تنخواہیں سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کریں گے۔ اس مقصد کے لیے پی ڈی ایم اے میں خصوصی اکاؤنٹ قائم کیا گیا ہے۔ اب تک صوبائی حکومت ریلیف اور بحالی کے لیے 6.5 ارب روپے جاری کر چکی ہے جبکہ مزید 5 ارب روپے جاری کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اور چیف سیکرٹری خود متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ “ہم سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جن کے گھر تباہ ہوئے انہیں دوبارہ گھر بنا کر دیں گے اور نقصانات کا سو فیصد ازالہ کریں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کچھ آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا اور یتیم بچوں کی کفالت کی مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت اٹھائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے پنجاب کے سیلاب متاثرین کے ساتھ بھی بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔

مصنف کے بارے میں

Shahbaz Sayed

مزید مضامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *