ماہرین کے مطابق اگر دنیا کو گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات سے بچانا ہے تو سب سے زیادہ کارآمد جگہیں استوائی بارانی جنگلات (Tropical Rainforests) ہیں۔ ان کے چند اہم پہلو یہ ہیں:
تیز نشوونما: استوائی علاقوں میں سورج کی روشنی، بارش اور نمی زیادہ ہونے کے باعث درخت بہت تیزی سے اُگتے ہیں۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب: یہاں لگائے گئے درخت دیگر خطوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔
دیرپا اثرات: ان جنگلات میں لگائے گئے درخت زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں اور ماحولیات کو طویل مدتی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
جنگلی حیات کے لیے سہارا: استوائی جنگلات حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کے بڑے مراکز ہیں۔ شجرکاری سے مقامی جانوروں اور پرندوں کو محفوظ مسکن ملتا ہے۔
کاربن ذخیرہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت: ایک ایکڑ میں اگنے والے درختوں کا کاربن ذخیرہ کرنے کا اثر دوسرے خطوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ثابت ہوتا ہے۔
اسی لیے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کو کم کرنے کے لیے کوئی بڑی اور تیز رفتار حکمتِ عملی اپنانی ہو تو استوائی خطوں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری سب سے مؤثر قدم ہوگا۔