تفصیلات کے مطابق بھارت کی میزبانی میں ایشیا کپ 9 سے 28 ستمبر تک متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا۔ اس سے قبل قومی ٹیم افغانستان اور یو اے ای کے ساتھ سہ فریقی سیریز میں شرکت کرے گی۔
ایشیا کپ کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلا میچ 14 ستمبر کو شیڈول ہے، جبکہ دونوں ٹیموں کا ممکنہ دوسرا مقابلہ 21 ستمبر کو ہوگا۔ اگر دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچیں تو شائقین کو روایتی حریفوں کے درمیان تیسرا بڑا ٹاکرا دیکھنے کا بھی موقع مل سکتا ہے۔
امارات کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے بتایا کہ ایشیا کپ کی تیاریاں مکمل ہیں اور شائقین کو اعلیٰ معیار کی کرکٹ دیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام شریک ٹیموں کے بورڈز نے اپنی حکومتوں سے اجازت لے کر شرکت کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 100 فیصد گارنٹی دینا ممکن نہیں مگر پوری امید ہے کہ بھارتی ٹیم پاکستان کے خلاف میچ میں ضرور شریک ہوگی۔ شائقین کی جانب سے بائیکاٹ کے خدشات بھی موجود نہیں اور ہاؤس فل اسٹیڈیمز کی توقع ہے۔
سبحان احمد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جعلی ٹکٹس آن لائن فروخت کرنے والوں کے باعث ایشین کرکٹ کونسل اور ای سی بی کو سوشل میڈیا پر الرٹ جاری کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ باضابطہ اعلان کے بعد ہی ٹکٹس آفیشل ویب سائٹ سے خریدے جائیں، تاکہ شائقین فراڈ سے بچ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹکٹنگ ایجنسی کے ساتھ معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور چند روز میں آن لائن ٹکٹس دستیاب ہوں گے، جن کے نرخ شائقین کی پہنچ میں رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
سی او او ای سی بی نے واضح کیا کہ دبئی میں پاکستان اور بھارت کے شائقین کے لیے الگ اسٹینڈز مختص کرنے کی کوئی ہدایت نہیں ملی، لہٰذا ماضی کی طرح سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھیل سے لطف اندوز ہوں گے۔ البتہ شارجہ میں پاک افغان شائقین کے لیے علیحدہ نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے کیونکہ وہاں سہ فریقی سیریز کے میچز ہوں گے، ایشیا کپ کے نہیں۔
سبحان احمد کے مطابق ایشیا کپ کی کوئی بڑی افتتاحی تقریب نہیں ہوگی، ایونٹ کا آغاز سادہ انداز میں کیا جائے گا۔ شائقین عام طریقے سے یو اے ای کا ویزا حاصل کرسکیں گے جبکہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔